آج کل کے دور میں پیار جس کو ہم لو کہتے ہیں ایسا کچھ بھی نہی ہے۔ایک لفظ اکثر سنتے ہیں لو ان فرسٹ سائٹ۔یعنی آپ کسی کو بھی دیکھ لیں تو آپ کو پیار ہو سکتا ہے۔اسکا مطلب آپ کو تو ہر روز بھی پیار ہو سکتا ہے۔کیونکہ نظر میں تو دنیا کی ہر خوبصورت چیز آسکتی ہے۔اور یہ ایک حقیقت ہے کے انسان کبھی بھی ایک چیز کے ساتھ زیادہ وقت نہی گزار سکتا۔یعنی انسان کی پسند بدلتی رہتی ہے۔جیسے ایک بچہ کسی کھلونے کی چاہت رکھتا ہے اور اسکو جب وہ چیز مل جاتی ہے تو کچھ وقت کے بعد پچہ اس کھلونے سے اکتا جاتا ہے۔پھر یا تو کھلونے کو توڑ دیتا ہے یا اس سے کھیلنا چھوڑ دیتا ہے۔ٹھیک ایسے ہی اگر پیار سچا ہو تو نہ تو ہر ایک سے ہوتا ہے نہ ہی ایک نظر کسی پر پڑنے سے ہوتا ہے۔آج کل کا پیار موسم سے بھی تیز ہوچکا ہے۔اور اس کو جو لوگ پیار کہتے ہیں وہ تو کسی غلطی پر ہی ہیں۔کیونکہ وہ پیار نہی بلکہ وقت پاس ہے۔کسی کو آواز اچھی لگے تو اس کو پیار کہہ دیتا ہے۔تو کسی کو چال ڈھال اور شکل۔پر جیسے ہی کچھ وقت گزرتا ہے تو اس آواز اور چال ڈھال اور شکل سے انسان بور ہو جاتا ہے۔بلکل اس ہی طرح جیسے بچے کھلونے سے اکتا جاتے ہیں۔اور آج کل کے نوجوان اس کو پیار سمجھ کر ہلکان ہوۓ پھرتے ہیں۔اس لئے نہ ہی کسی کی لو سٹوری کامیاب ہوتی ہے نہ ہی ذیادہ دیر چلتی ہے۔
اگر سچ پوچھا جاۓ کے سچا پیار کیا ہوتا ہے تو وہ ہے ایک مسلمان کا اپنے اللہ اور پیارے نبی پاک سے پیار۔جنکو نہ کبھی دیکھا نہ سنا۔پر ایک ایمان ہے ان پر۔اور ایسا ایمان کے جان بھی چلی جاۓ تو کوئی خوف نہی۔یہ ایک ایسی جیتی جاگتی مثال ہے جس پر کسی کو کوئی شک ہی نہی ہے۔اور اس کے بعد اگر سچے پیار کو دیکھنا ہو تو ماں باپ کا اپنی اولاد کو دیکھ لے۔اور اسکے بعد حلال محبت دیکھنی ہو تو وہ ہے میاں بیوی کی محبت۔اور یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان کی ساری ذندگی کی سچی محبت ہے۔اور شرط یہ ہے کے دونوں ایک دوسرے سے دل سے ہوں۔پر جو آج کل کے نوجوان سوشل میڈیا اور کالج یونیورسٹی کی محبت میں مبتلا ہیں وہ سواۓ اپنے آپکو دھوکا دینے کے کچھ بھی نہی ہے۔وہ صرف ایک لزت کہی جا سکتی ہے جس میں گناہوں کے سوا کچھ بھی نہی رکھا ہوتا۔
آج کل کے سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے شاید تاریخ میں کبھی دیکھنے کو نہی ملا۔ایسے حالات میں صرف اللہ سے دعا ہی مانگی جاسکتی ہے اس معاشرے میں ہدایت کی۔ ملتے ہیں اگلے بلاگ میں۔اللہ حافظ۔
Leave a comment