آج کل کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے غیر محرم چاہے وہ مرد ہو یا عورت دونوں جب محبت کے وہم میں مبتلا ہوتے ہیں تو اپنے خونی رشتوں کو بھول جاتے ہیں۔اور ایسے بھولتے ہیں کے غیر محرم رشتوں کیلئے اپنے رشتوں سے الجھ پڑتے ہیں۔کہتے ہیں کے خونی رشتے سے بڑھ کر کوئی نہی ہوتا جو کے حقیقت ہے۔پر اس غیر محرم جو کے حرام کا رشتہ کہا جاۓ کچھ غلط بات نہی ہے۔کیونکہ آج کل اس بے نامی رشتے میں لذت ہی ڈھونڈی جاتی ہے۔اور لذت حرام کے کام میں ذیادہ ہوتی ہے۔اور شیطان کبھی حلال کے کام کو چلنے نہی دیتا۔اس لئے جب اس غیر محرم رشتے کی آمد ہوتی ہے تو حرم رشتہ اس پر بھارا پڑ جاتا ہے اور اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے ہم اپنے حلال کے رشتے میں سب کچھ کھو جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے اصل سوال یہ ہے۔کیوں آج کل کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس حرام کے رشتے میں کیوں گھستے ہیں۔اسکی کچھ وجوہات بتاتا جاتا ہوں جو کے ذیادہ تر دیکھی جا چکی ہے۔
جب والدین اولاد کو وقت نہی دیتے۔یا والدین اولاد پر دیحان نہ دیں اور انکی ضروریات کو پورا نہ کریں۔پھر بچے دوسروں کو دیکھتے ہیں۔دوسرے لوگوں اور بچوں کو دیکھ کر پریشان رہتے ہیں۔اور اپنے دل کی بات گھر کی بجاۓ باہر والوں سے شروع کر دیں تو سمجھ جائیں کے خونی رشتے میں دڑار پڑ چکی ہیں۔اپنی اولاد کو اپنے قدم کے ساتھ قدم بڑھانا سیکھائیں۔اپنی اولاد کو جب ماں باپ نے اہمیت کم دینی ہے۔یا دوسرے بچوں کی تعریفیں اپنی اولاد کے سامنے کرنی ہیں تو بچے کبھی برداشت نہی کرتے۔ماں باپ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے خراب کردیتے ہیں پھر بچے اپنی تکلیف اور محرومی کیلئے ایسے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں کے اپنے خونی رشتے سے اچھے باہر کے بناۓ رشتے اچھے بن جاتے ہیں۔اگر شروع میں ہی ماں باپ بچوں پر ایسے فوکس کر لیں جیسے آج کل ہمیں اپنے موبائل فون کی فقر اپنے سے زیادہ ہے تو غیروں کو کبھی موقع نہ ملے کے وہ آپکے گھر میں کسی معاملے میں بھی مداخلت کریں۔اور اس فرضی محبت کے چکر میں اپنے خونی رشتوں سے دور نہ ہو سکیں۔پر یہ بھی حقیقت ہے کے خونی رشتہ جتنا بھی ناراض ہو پر کبھی بھی تکلیف میں منہ نہی پھیرتا۔رشتوں میں دراڑوں کی بہت سے وجوہات ہیں جو کے ہماری اپنی غلطی ہے۔یہ ساری باتیں اگلی تحریر میں شامل کی جائیں گی۔دعا ہے کے اس سخت دور کے سخت حالات میں کم سے کم ہم اپنے اصل رشتوں کو پہچان سکیں اور ان خوبصورت رشتوں کا ساتھ دیے سکیں۔اللہ حافظ
Leave a comment