انڈے کا چھلکا اور جھلی جوڑوں کے درد اور ہڈیوں کی کمزوری کا علاج ہے

روزانہ کی خوراک سے مطلوبہ مقدار میں کیلشیم جذب کرنا جسم کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے اور اگر جسم یہ نہ کر پائے تو جسم میں کیلشیم کی کمی پیدا ہوتی ہے جو بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے خاص طور پر ہڈیوں کی کمزور، دانتوں کا خراب ہونا، جوڑوں کا درد وغیرہ۔

کیلشیم کی کمی کی صُورت میں بازار میں کیلشیم کے سپلیمنٹ عام فروخت ہوتے ہیں لیکن اس کیلشیم کو حاصل کرنے کا ایک سستا اور مفید ذریعہ انڈے کا چھلکا بھی ہے جسے کئی کیلشیم سپلیمینٹ بنانے والی کمپنیاں اپنی پروڈکٹس میں استعمال کر رہی ہیں۔

انڈے کا چھلکا ا ور اُسکے فوائد.

انڈے کا چھلکا انڈے کی وہ بیرونی سطح ہے جو زیادہ تر کیلشیم کاربونیٹ پر مشتعمل ہوتی ہے اور یہ غذائی کیلشیم کی ایک عام قسم ہے باقی عناصر میں پروٹین اور منرلز شامل ہیں۔

کیلشیم کاربونیٹ غذا میں پائی جانی والی بنیادی کیلشیم ہے اور کئی ماہرین کے مطابق انڈے کے چھلکے میں موجود کیلشیم کاربونیٹ جسم میں سپلیمنٹ کیلشیم کی نسبت زیادہ جلدی جذب ہوتی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق اسکے جذب ہونے کا تناسب 64 فیصد تک سپلیمنٹ کیلشیم سے تیز ہوجاتا ہے۔

انڈے کے چھلکے میں پائے جانے میں منرلز سٹرونٹیم، فلورائیڈ اور میگنیشیم وغیرہ بھی کیلشیم کی طرح ہڈیوں کی نشوونما کے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

جوڑوں کی صحت کے لیے مفید.

انڈی کی جھلی جو چھلکے اور انڈے کی سفیدی کے درمیانی ایک باریک پردے کی صُورت میں موجود ہوتی ہے اسے ایگ شیل ممبرین کہا جاتا ہے اور یہ جھلی زیادہ تر پروٹین کی ایک خاص قسم کلوجن پر مشتعمل ہوتی ہے اور کم مقدار میں دیگر غذائی عناصر پر مشتعمل ہوتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس جھلی کے سپلیمنٹ کا روزانہ استعمال جوڑوں کے درد میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

اس جھلی کو بطور سپلیمنٹ استعمال کرنے کے لیے انڈے کو اُبال کر چھیلتے ہُوئے جھلی کو علیحدہ رکھ لیں اور اسے خُشک کرکے پیس کر پاوڈر بنا لیں اور اسے آپ کسی بھی جُوس اور شیک وغیرہ میں شامل کر کے پی سکتے ہیں۔

کمزور ہڈیوں کا علاج.

ہڈیوں کی کمزوری آسٹیوپوروسس جیسی بیماری کو پیدا کرتی ہے جس میں ہڈیاں اندر سے بھربھری ہوجاتی ہے اور اتنی کمزور ہو جاتی ہیں کے ہلکی سے چوٹ سے بھی ٹوٹ سکتی ہیں اور بُوڑھی عمر کے افراد کا اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر آپ اپنی خوراک سے کیلشیم کی روازنہ کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں کر پا رہے تو انڈے کے چھلکے سے اس مقدار کو پُورا کرنا ایک سستا اور مفید ذریعہ ہے اور ایک تحقیق کے مطابق انڈے کی سفیدی سے حاصل ہونے والی کیلشیم کاربونیٹ کو اگر وٹامن ڈی 3 اور میگنیشیم کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ بوڑھی عمر کی خواتین کی ہڈیوں کو صحت مند رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کے آسٹیوپورسس میں عام کیلشیم سپلیمنٹ کی نسبت انڈے کی سفیدی سے حاصل کی گئی کیلشیم زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کے آسٹیوپورسس میں عام کیلشیم سپلیمنٹ کی نسبت انڈے کی سفیدی سے حاصل کی گئی کیلشیم زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

انڈے کی سفیدی سے سپیلمنٹ بنانے کا طریقہ.

انڈے کی سفیدی پر بہت سے جراثیم ہو سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ انڈے کو اُبال کر سفیدی حاصل کی جائے، اس اُبلی ہُوئی سفیدی کو خشک کر لیں اور پھر اسے باریک پیس کر پاوڈر بنا لیں اور روزانہ اس پاوڈر کی 2.5 گرام مقدار استعمال کرنے سے آپ کو پورے دن کی مطلوبہ کیلشیم کی مقدار مہیا ہو جائے گی۔

انڈے کے چھلکے کے نقصانات.

اگر انڈے کے چھلکے کو مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے تو عام طور پر اس سے صحت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن چند باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ نمبر 1 انڈے کے چھلکے کو ثابت حالت میں کھانے کی کوشش مت کریں کیونکہ اس سے آپ کے گلے اور غذائی نالی میں زخم ہو سکتا ہے۔

نمبر 2 انڈے کے شیل کے اوپر بیکٹریا وغیرہ پائے جاتے ہیں اور یہ بیکٹریا فوڈ پوائزینگ جیسے امراض میں مبتلا کر سکتے ہیں اس لیے انڈے کے چھلکے کو انڈہ ابال کر اُتاریں۔

نمبر 3 انڈے کا چھلکا قدرتی کیلشیم سپلیمینٹ ہے لہذا اس میں کچھ ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جن کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہے خاص طور پر ایلومینیم اور مرکری وغیرہ مگر چھلکے میں ان کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started